بس بات اتنی سے ہے کہ بلڈر کی جیب سے سوسائٹی کے ترقیاتی کاموں کے پیسے نہیں نکالتے ویسے لوگ تو تیار ہیں اور آپ کی وڈیو کے مطابق اپنے گھروں کی تعمیر کیلئے ان حالات میں بھی اچھی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔ حالانکہ بلڈرز نے سوسائٹی کے بلاک 3/4میں پچھلے سال جاری ترقیاتی کام ادھورا چھوڑ دیا ہےاور بلڈرز کی جانب سے خاص طور پر بلاک 3 کے درمیانی حصہ جہاں 400 اور 240 گز کے پلاٹ ہیں وہاں تو بلکل بھی بنیادی ترقیاتی کام ہوا ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے پچھلے حصے تک رسائی دشوار ہے ۔ اور وہاں 120 گز کے پلاٹ بڑی تعداد میں موجود ہیں پر دشوار گزار راستے اور رسائی کی وجہ سے تعمیراتی کام مشکل اور رہائش بھی مشکل ہے۔ بلڈرز کی جانب سے مسجد کی بنیاد رکھی جانی چاہیے پارکس کی باؤنڈری کی جا سکتی ہے۔ پر بلڈر کی جیب سے سوسائٹی کے ترقیاتی کاموں کے پیسے نہیں نکالتے۔
Best investment ha boss 20 din me 20 lakh nikal liyeh invester nei aur mazeed rate increase horahay ha wawaie me bohot aala blk ha yeah hakim vilaz k pass.. Nest year full hojaiga Yeh aur jab 2 crore me bhie nahe milaiga 240
Ye society 30 Saal se esi he he sirf broker taap or satta lagarey zaman town me yhn development or security k issues hain Kafi Barish me selab ata h yhn last yr DEKA is Saal Barish nhi hui oloan agya is kie
سعدی گارڈن اور پیر احمد زمان ٹاؤن دونوں سوسائٹیز میں گزشتہ کئی سالوں سے ترقیاتی کام، انفراسٹرکچر، سیکیورٹی اور مینٹیننس کے حوالے سے سنگین مسائل موجود ہیں۔
دونوں سوسائٹیز میں بجلی، پانی اور گیس کی سہولت بھی مناسب اور مستقل طور پر دستیاب نہیں ہے، جبکہ سیکیورٹی کا نظام بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ اس کے باوجود آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کام مطلوبہ انداز میں نہیں کیے جا رہے۔
پاک لینڈ اور دادابھائی کی جانب سے بھی ترقیاتی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے مطلوبہ کام نہیں کروائے جا رہے، جبکہ لوگوں سے بجلی اور مینٹیننس کے چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں۔
دونوں سوسائٹیز میں ٹھیکیدار، بروکرز اور گورنمنٹ لون اسکیم کی وجہ سے پراپرٹی کے ریٹس مصنوعی طور پر زیادہ کیے جا رہے ہیں، جس سے عام خریدار کو مارکیٹ کی اصل صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
2021 میں بھی مارکیٹ ریٹس میں اضافہ ہوا، 2022 میں ریٹس مزید بلند ہوئے، لیکن بعد میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ریٹس دوبارہ نیچے آ گئے۔ اس کے باوجود بنیادی ترقیاتی کاموں میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آئی۔
میری تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ سعدی گارڈن یا پیر احمد زمان ٹاؤن میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ کر اور مکمل تحقیق کے بعد فیصلہ کریں۔ صرف بروکرز، ٹھیکیداروں یا گورنمنٹ لون اسکیم کی وجہ سے بڑھائے گئے مصنوعی ریٹس دیکھ کر سرمایہ کاری نہ کریں۔
Pir Ahmed Zaman Town Block 3| Construction Start On 2 New Plots | Lastest Update About Construction