اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی حیات کی حفاظت کے لیے تقویٰ کا نظام مقرر فرمایا ہے، لیکن دین کی بنیادی ترتیب کو نظر انداز کرنے کے باعث انسانی زندگی کے مختلف شعبے دین سے جدا ہو گئے ہیں۔ قرآن و دین سے تعلق موجود ہونے کے باوجود عملی زندگی سیاست، معیشت، تعلیم، عدالت، معاشرت اور دیگر شعبوں میں غیر الٰہی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اس خطبے میں واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی دینی زندگی صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ سماجی زندگی اور پورے نظامِ حیات کی اصلاح بھی دین کا بنیادی تقاضا ہے۔
قرآن کریم نے انسانی ہدایت اور نظامِ الٰہی کے تسلسل کے لیے تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیہ جیسے بنیادی مراحل بیان کیے ہیں۔ لیکن تلاوتِ آیات کو صرف قرآن خوانی، اور تعلیمِ کتاب کو صرف قرآن پڑھنے پڑھانے تک محدود کر دیا گیا، جبکہ حکمت جیسے بنیادی قرآنی مفہوم پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ حالانکہ قرآن حکمت کو خیرِ کثیر قرار دیتا ہے: جسے حکمت عطا کی گئی، اسے بہت بڑی خیر عطا کی گئی۔
خطبے میں حکمت کے مفہوم کو عقل و خرد، فہم، تدبیر اور انسانی زندگی کے درست ضابطے کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ حکمت صرف معلومات یا علم کا نام نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ زندگی میں کیا کرنا چاہیے، کیا نہیں کرنا چاہیے، کیسے عمل کرنا چاہیے اور کن اصولوں کے تحت فرد، خاندان اور معاشرے کو چلانا چاہیے۔ انسان کے جذبات، احساسات اور خواہشات بھی اسی وقت درست سمت میں آتے ہیں جب عقل حکمت کے ذریعے ان پر حاکم ہو۔
حکمتِ نظری انسان کو یہ سمجھاتی ہے کہ کیا موجود ہے، کیا نہیں ہے، حقیقت کیا ہے اور موجودات کی حقیقت و خصوصیات کیا ہیں، جبکہ حکمتِ عملی انسان کے ارادی اعمال کے لیے ضابطہ فراہم کرتی ہے کہ کیا ہونا چاہیے، کیا نہیں ہونا چاہیے، کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ حکمتِ عملی کے اہم شعبوں میں اخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاستِ مدن شامل ہیں، یعنی فرد، خاندان اور معاشرے کی درست تدبیر۔
خطبے میں اس بات پر بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان اکثر حکمت کے مطابق نہیں بلکہ عادت، خواہش اور من مرضی کے تحت زندگی گزارتا ہے۔ روزمرہ کے ہر عمل—بولنے، سننے، دیکھنے، اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، کھانے پینے اور معاشرتی معاملات—کے لیے ایک درست الٰہی ضابطہ موجود ہے۔ جب یہ ضابطہ زندگی سے نکل جاتا ہے تو حکمت کی جگہ حماقت لے لیتی ہے۔ اسی لیے فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے حکمت کا حصول بنیادی ضرورت ہے۔
قرآن سے حکمت حاصل کرنے کے بجائے مختلف مذہبی فرقوں، مسالک اور گروہی تصورات کی تائید کے لیے قرآن سے دلائل نکالنے کے رجحان پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان فرقہ اور گروہی تعصب کو معیار بنا کر قرآن کی طرف نہ جائے بلکہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرے، تاکہ قرآن کی روشنی میں حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کو پہچانا جا سکے۔
خطبے میں علمِ فلسفہ اور حکمت کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے اور موجودہ تعلیمی و دینی ماحول میں فلسفیانہ بنیادوں اور علومِ انسانی سے بڑھتی ہوئی بے رغبتی کو ایک بڑا علمی نقصان قرار دیا گیا ہے۔ شہید مرتضیٰ مطہریؒ اور اسلامی حکمت کے دیگر اہلِ علم کی توضیحات کی روشنی میں حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے فرق کو آسان انداز میں سمجھایا گیا ہے، جبکہ اخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاستِ مدن کو انسانی زندگی کی عملی تدبیر سے جوڑا گیا ہے۔
یہ خطبہ اس بنیادی سوال کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اگر قرآن کتابِ ہدایت ہے تو اس کتاب کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے حکمت اور تدبیر کہاں ہے؟ حقیقی دینی زندگی وہ ہے جس میں کتاب اور حکمت دونوں موجود ہوں اور انسان اپنی انفرادی، خاندانی، معاشرتی اور اجتماعی زندگی کو الٰہی ضابطوں کے مطابق ترتیب دے۔ اسی بنیاد پر دین کے تسلسل، نظامِ الٰہی کے قیام اور انسانی حیات کی حقیقی حفاظت کا راستہ واضح ہوتا ہے۔
#KhutbaEJuma #SyedJawadNaqvi #JummaKhutba #TafheemEQuran #DarsEQuran #IslamicEducation
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی حیات کی حفاظت کے لیے تقویٰ کا نظام مقرر فرمایا ہے، لیکن دین کی بنیادی ترتیب کو نظر انداز کرنے کے باعث انسانی زندگی کے مختلف شعبے دین سے جدا ہو گئے ہیں۔ قرآن و دین سے تعلق موجود ہونے کے باوجود عملی زندگی سیاست، معیشت، تعلیم، عدالت، معاشرت اور دیگر شعبوں میں غیر الٰہی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اس خطبے میں واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی دینی زندگی صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ سماجی زندگی اور پورے نظامِ حیات کی اصلاح بھی دین کا بنیادی تقاضا ہے۔
قرآن کریم نے انسانی ہدایت اور نظامِ الٰہی کے تسلسل کے لیے تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیہ جیسے بنیادی مراحل بیان کیے ہیں۔ لیکن تلاوتِ آیات کو صرف قرآن خوانی، اور تعلیمِ کتاب کو صرف قرآن پڑھنے پڑھانے تک محدود کر دیا گیا، جبکہ حکمت جیسے بنیادی قرآنی مفہوم پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ حالانکہ قرآن حکمت کو خیرِ کثیر قرار دیتا ہے: جسے حکمت عطا کی گئی، اسے بہت بڑی خیر عطا کی گئی۔
خطبے میں حکمت کے مفہوم کو عقل و خرد، فہم، تدبیر اور انسانی زندگی کے درست ضابطے کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ حکمت صرف معلومات یا علم کا نام نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ زندگی میں کیا کرنا چاہیے، کیا نہیں کرنا چاہیے، کیسے عمل کرنا چاہیے اور کن اصولوں کے تحت فرد، خاندان اور معاشرے کو چلانا چاہیے۔ انسان کے جذبات، احساسات اور خواہشات بھی اسی وقت درست سمت میں آتے ہیں جب عقل حکمت کے ذریعے ان پر حاکم ہو۔
حکمتِ نظری انسان کو یہ سمجھاتی ہے کہ کیا موجود ہے، کیا نہیں ہے، حقیقت کیا ہے اور موجودات کی حقیقت و خصوصیات کیا ہیں، جبکہ حکمتِ عملی انسان کے ارادی اعمال کے لیے ضابطہ فراہم کرتی ہے کہ کیا ہونا چاہیے، کیا نہیں ہونا چاہیے، کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ حکمتِ عملی کے اہم شعبوں میں اخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاستِ مدن شامل ہیں، یعنی فرد، خاندان اور معاشرے کی درست تدبیر۔
خطبے میں اس بات پر بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان اکثر حکمت کے مطابق نہیں بلکہ عادت، خواہش اور من مرضی کے تحت زندگی گزارتا ہے۔ روزمرہ کے ہر عمل—بولنے، سننے، دیکھنے، اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، کھانے پینے اور معاشرتی معاملات—کے لیے ایک درست الٰہی ضابطہ موجود ہے۔ جب یہ ضابطہ زندگی سے نکل جاتا ہے تو حکمت کی جگہ حماقت لے لیتی ہے۔ اسی لیے فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے حکمت کا حصول بنیادی ضرورت ہے۔
قرآن سے حکمت حاصل کرنے کے بجائے مختلف مذہبی فرقوں، مسالک اور گروہی تصورات کی تائید کے لیے قرآن سے دلائل نکالنے کے رجحان پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان فرقہ اور گروہی تعصب کو معیار بنا کر قرآن کی طرف نہ جائے بلکہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرے، تاکہ قرآن کی روشنی میں حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کو پہچانا جا سکے۔
خطبے میں علمِ فلسفہ اور حکمت کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے اور موجودہ تعلیمی و دینی ماحول میں فلسفیانہ بنیادوں اور علومِ انسانی سے بڑھتی ہوئی بے رغبتی کو ایک بڑا علمی نقصان قرار دیا گیا ہے۔ شہید مرتضیٰ مطہریؒ اور اسلامی حکمت کے دیگر اہلِ علم کی توضیحات کی روشنی میں حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے فرق کو آسان انداز میں سمجھایا گیا ہے، جبکہ اخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاستِ مدن کو انسانی زندگی کی عملی تدبیر سے جوڑا گیا ہے۔
یہ خطبہ اس بنیادی سوال کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اگر قرآن کتابِ ہدایت ہے تو اس کتاب کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے حکمت اور تدبیر کہاں ہے؟ حقیقی دینی زندگی وہ ہے جس میں کتاب اور حکمت دونوں موجود ہوں اور انسان اپنی انفرادی، خاندانی، معاشرتی اور اجتماعی زندگی کو الٰہی ضابطوں کے مطابق ترتیب دے۔ اسی بنیاد پر دین کے تسلسل، نظامِ الٰہی کے قیام اور انسانی حیات کی حقیقی حفاظت کا راستہ واضح ہوتا ہے۔
#KhutbaEJuma #SyedJawadNaqvi #JummaKhutba #TafheemEQuran #DarsEQuran #IslamicEducation