graphene tho 2005 main invent ho chuka hai 2 inventors ko nobel price bhi mila hai iska raw material 10, ya 15 rupees kilo hoga lekin jab yeah graphene banega tho iski qeemat 100 gramm 10,15000/- rupees hoti hai isay intehaee darjay par garm karna padta hai jab kaheen graphene banta hai
میں مکینیکل کے شعبے سے وابستہ ہوں اور آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں بجلی کا گزار سونا چاندی کے بعد کاپر پر منحصر ہے اور اس کا متبادل دنیا میں موجود ہی نہیں ہے حالانکہ کاپر بھی بہترین دھات نہیں ہے اس لیے ایٹمی پلانٹ اور دیگر حساس مصنوعات کے لیے سونے اور پلاٹینم کا استعمال کیا جاتا ہے آپ اپنی تحقیق درست فرماۓ۔۔۔۔ہاں البتہ غیر معیاری اور سستے حل موجود ہے۔۔۔
اللّٰہ حفاظت فرمائیں