بچپن میں ہماری امی سارا دن ٹیپ ریکارڈر پر سناتی رہتی تھی صبح کو نو بجے سارا کام کاج ختم کرکے طاہر جھنگوی کی نعت لگا دیتی تھی اور کپڑے سیتی رہتی تھی ہمارے گھر میں کوئی کیسے بھی آتا تھا یک لخت چپ ہو جاتا تھا ایک مصرعہ سن کر ہی بات کرتا تھا واہ واہ کیا دن تھے ہم صحابہ صحابہ کرتے بچے بڑے ہوگئے جھنگویوں کی شاہدتیں سنتے آئے تقریریں سنتے آئے اب بڑے ہوگئے دکھ کی بات بتانا ہے ہمارے بچے بلکل انجان ہیں ہمارے گھر میں کھانے کو نہیں ہوتا تھا لیکن ہائے جب شہید حق نواز جھنگوی قتل ہوئے تو اس دن ساری اخباریں منگوائی شہید کی تصویریں دکھا دکھا کر روتی رہی کئی دن میری امی افسردہ رہی صاحابہ کی عزت جھنگویوں نے خون سے بتائی لیکن جھنگویوں کی آواز ہمارے گھر میں امی لائی تمام دوستوں سے ہماری امی کے لئے لمبی عمر اور صحت کے لئے دعا فرمائیں آج بھی ضعف میں بھی قرآن اورنماز و تہجد کبھی نہیں چھوٹتے آج بھی طاہر جھنگوی سنادو تو جھوم جاتی ہے آواز بھی بہترین ہے تلاوت میں بھی طاہر جھنگوی صاحب کے نظم خوبصورتی میں پڑھتی ہے ایک ایک لفظ یاد ہے اسکو نظموں کے سپاہ صحابہ کے جلسوں میں بھیجھتی تھی غربت کے سبب بھی جب کہ ہم بچے ہوتے تھے اسکو کیسٹ کی لالچ ہوتی تھی وہاں سے نئی کیسٹ لانا بہت بڑا رکارڈ موجود ہے ہمارے پاس کیسی میری ماں ہے ہے کسی کے پاس ایسی ماں
اللہ پاک حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی قبر مبارک پر قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
طاہر جھنگوی برداران نے بھی ماشاءاللہ پون صدی سے ۔۔۔۔۔۔مشن جھنگوی کواوڈھنابچھونابنایاھواھے۔۔۔۔۔اللہ طاہر جھنگوی کوسلامت رکھے اور انکی خدمات کو قبول فرمائے۔۔۔۔۔۔۔