یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔ چھین لے مجھ سے حافظہ میرا جناب آپکے اس ویڈیؤ سے میرا 50 سال قبل سن 1976 تا 1979 یاد آگیا جو میں نے سیدو شریف ( اولڈ پولیس لائنز )میں گزرا ہے اسی مسجد میں ہم 5 وقت حاضری دیتے اور ایک خوبصورت صاف پانی کاچشمہ جو اب خشک ہو چکا ہے رمضان المبارک میں روزے اور تروایح میں ختم القرآن سب اب 70 سال کی عمر میں ایک اب خوب صورت خواب جیسا لگ رہا ہے ۔ اللّہ پاک اپ کو آجر عظیم دیں ( صوابی سے حاجی لایق زمان تولاندئ)
اخوند عبدالغفور رحمتہاللہ المعروف سیدو بابا کے دو بیٹے۔ تھےایک کانام میاگل عبدالحنان تھا اور دوسرے کا نام میاں گل عبدالخالق تھا جوکہ 1892 میں وفات پا گئے تھے اس عبدالخالق کا بیٹا میاگل عبدالودود ھے جوکہ بعد میں ریاست سوات کا بادشا بنا تھا
سیدو بابا انگریزوں کے جاسوس تھے سر اولف کیرو نے تاریخ پٹھان میں اس کا حط نقل کیا ہے اصل برٹش میوزیم میں پڑا ہے پٹھانوں نے ملاکنڈ تھانے میں میٹنگ کی تھی اس کا احوال انگریزوں کو بھیجا ملاکنڈ ٹاپ پر جو بزرگ آج دفن ہے وہ سیدو کی غداری سے شہید ہوا ہے اللہ بخش یوسفی صاحب نے اپنے کتاب یوسفزئی پٹھان میں بھی اس کے غداری کا ذکر کیا ہے مولانا عبد القادر صاحب جو اسلامیہ کالج کے سابقہ پرنسپل تھے اس حط کا عکس ترجمے میں دیا ہے اور آج سیدو حضرت بن گئے ہیں