اگر غور سے سنیں تو اس کلام کے معنی انتہائی گہرے ہیں اور اس میں اللہ کی ذات کے حوالے سے ایسے لطیف فلسفے کو بیان کیا گیا ہے جو براہِ راست 'وحدت الوجود' کے نظریے (یعنی 'سب کچھ خدا ہی ہے' اور ہر شے میں اسی کی جھلک ہے) کی عکاسی کرتا ہے۔
اس قوالی کے بول کتنے پُر اسرار ہیں کہ 'خدا نے خود ہی موسیٰ بھی بنایا اور فرعون بھی'، یعنی دونوں میں اسی ذاتِ پاک کی تجلی تھی۔ پھر آخر میں کیا ہی خوبصورت نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے اس تمام کائنات کے کھیل کو اپنی ذات (حمد) پر ظاہر کرنے کے لیے خود پر 'میم' کا گھونگھٹ ڈالا، اور 'حمد' سے 'محمد (ﷺ)' کو تخلیق کر کے اپنی صفات کا سب سے بڑا مظہر دنیا کے سامنے آشکار کیا۔
اس میں حضرت منصور حلاج کا بھی ذکر ہے جنہوں نے اسی وحدت الوجود کی کیفیت میں مست ہو کر 'أنَا الحَق' (میں حق/خدا ہوں) کا نعرہ لگایا تھا، اور اسی راز کو فاش کرنے کی پاداش میں انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ تاریخ میں وحدت الوجود کے اس فکری نظریے کو ہمیشہ ایک کٹھن اور حساس موڑ سمجھا گیا ہے، اور عام طور پر معاشرے اور فقہ میں 'وحدت الشہود' کے نظریے (یعنی 'سب کچھ خدا سے ہے') کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ شریعت کے ظاہر کے زیادہ قریب ہے۔
نصرت فتح علی خان صاحب کی آواز میں یہ قوالی صرف ایک گیت نہیں، بلکہ معرفتِ الٰہی کا ایک سمندر ہے!