ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی،اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔
دین کی اصل تعلیم و تربیئت کو چھوڑ کر اللہ وسایا صاحب نے کس قدر گھٹیا حرکت کی۔ وفاق المدارس کو چاہیئے ان کی تمام سندیں کینسل کروائیں اور ان کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر کریں۔
اللہ تیرا خاتمہ ایمان حنفی پر کرے تم احتساب رافضیت پر کیوں کتاب نہیں لکھتے۔جو اس دور حاضر کی اھم ضرورت ہے۔تم اسلام کی رسی کو کیوں اس جگہ سے چھیڑتے ہو جہاں سے سارا اسلام منھدم اور دھڑام سے گر جائے گا۔۔۔۔جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام اور آدب نہ جانے اس کے تشخص اور علمی سمجھ پر ہزار بار لعنت ہو۔۔۔۔اس گزرے عمر میں تم گمراہی کا بڑا شوق ہوگیا۔۔۔تجھے پتہ ہے اگر پتہ نہیں تو سن لو۔۔ کہ ھم معاویہ رضی اللہ عنہ امیر شام کو ایمان اور نفاق کے درمیان ایک علامت اور نشانی مقرر کیا ہے۔اس نام مبارک کی وجہ سے بڑے بڑوں کا جگری نفاق کھل کر سامنے آجاتا ہے۔۔۔ھم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ادنی سے بھی کم بےآدبی کو مجوسیوں کی عید اور خوشی کے مترادف سمجھتے ہیں۔۔۔۔تمام اصحاب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم قرآنی شخصیات ہے۔۔ان کو تاریخ کے ردی اوراقوں میں مت ڈھونڈو۔۔ورنہ گمراہ ہوجاوگے۔۔۔۔
مولانا اللہ وسایا سو فیصد صحیح یہ بات اہل سنت کے یہ نام نہاد ملا سب جانتے ہیں۔لیکن چونکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس کتاب کے منظر عام پر آ نے سے شیعوں کے موقف کو تقویت ملتی ہے اس لیے ان بدبختوں کو مرچے گئی ہوئی ہیں۔یہ کبھی حق بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ بہر حال بقول شاعر انسان کو بیدار تو ہولینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
ناصبی علمائے سو۔۔۔ مردہ باد